اسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی زندگی کے ہر پہلو کو عدل، مساوات اور اخلاق کی بنیاد پر ترتیب دیتا ہے۔ اس نے جہاں مردوں کے حقوق کو تسلیم کیا، وہیں عورت کو بھی عزت، مقام اور حقوق عطا کیے۔ قبل از اسلام معاشروں میں عورت کو کمتر، کمزور اور قابلِ استعمال شے سمجھا جاتا تھا۔ اسلام نے آ کر عورت کو وہ مقام دیا جو تاریخ میں کسی مذہب یا تہذیب نے نہیں دیا۔ ذیل میں عورت کے مقامِ اسلام کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔
عورت کا مقام اسلام کی نظر میں کیا ہے؟
عورت کا مقام اسلام میں
اسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی زندگی کے ہر پہلو کو عدل، مساوات اور اخلاق کی بنیاد پر ترتیب دیتا ہے۔ اس نے جہاں مردوں کے حقوق کو تسلیم کیا، وہیں عورت کو بھی عزت، مقام اور حقوق عطا کیے۔ قبل از اسلام معاشروں میں عورت کو کمتر، کمزور اور قابلِ استعمال شے سمجھا جاتا تھا۔ اسلام نے آ کر عورت کو وہ مقام دیا جو تاریخ میں کسی مذہب یا تہذیب نے نہیں دیا۔ ذیل میں عورت کے مقامِ اسلام کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔
1. عورت کی تخلیق اور مساواتِ انسانیت
اسلام نے سب سے پہلے عورت اور مرد کے درمیان بنیادی انسانی مساوات کو تسلیم کیا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
“اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا...”
(سورۃ النساء: 1)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ عورت اور مرد دونوں ایک ہی نفس سے پیدا کیے گئے ہیں۔ لہٰذا انسانیت، عزت، اور تکریم میں دونوں برابر ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
“عورتیں مردوں کی شریکِ حیات ہیں” (سنن ابوداؤد)
یہ مساواتِ فطری اسلام کی بنیادی تعلیم ہے، جو عورت کو محض ایک تابع وجود نہیں بلکہ انسانی مساوات کا لازمی جزو قرار دیتی ہے۔
2. عورت کا روحانی و دینی مقام
اسلام نے عورت کو روحانی اعتبار سے مرد کے برابر درجہ دیا۔ ایمان، عبادت اور عملِ صالح کے اجر میں عورت و مرد میں کوئی فرق نہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“بیشک میں کسی مرد یا عورت کے عمل کو ضائع نہیں کرتا، تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو۔”
(سورۃ آلِ عمران: 195)
یہ آیت عورت کی روحانی برابری کی صریح دلیل ہے۔ عورت نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، جہاد بالنفس اور صدقہ میں مرد کے برابر اجر و ثواب کی حق دار ہے۔
3. ماں کے طور پر عورت کا مقام
اسلام نے ماں کے قدموں میں جنت رکھی۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
“جنت تمہاری ماؤں کے قدموں تلے ہے۔”(نسائی)
ایک شخص نے نبی ﷺ سے پوچھا: یا رسول اللہ! میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:
“تیری ماں۔”
اس نے دوبارہ پوچھا، آپ ﷺ نے فرمایا: “تیری ماں۔”
تیسری بار پوچھنے پر بھی یہی جواب دیا۔ چوتھی بار فرمایا: “پھر تیرا باپ۔”
(بخاری و مسلم)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ ماں کا مقام اسلام میں کسی اور رشتے سے بڑھ کر ہے۔ عورت کو ماں بننے کے بعد گھر کا مرکز، تربیت کی بنیاد اور عزت و رحمت کا سرچشمہ قرار دیا گیا۔
4. بیٹی کے طور پر عورت کا مقام
اسلام سے پہلے بیٹی کی پیدائش عار سمجھی جاتی تھی۔ قرآن میں بیان ہے:
“جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے اور غم سے بھر جاتا ہے۔”
(سورۃ النحل: 58)
اسلام نے اس ظلم کا خاتمہ کیا اور بیٹی کو رحمت قرار دیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
“جس نے دو بیٹیوں کی پرورش احسن طریقے سے کی، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ یوں ہوگا (اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں ملا لیں)”
(مسلم)
یہ حدیث عورت کے بچپن سے ہی عزت و قدر کے مقام کو ظاہر کرتی ہے۔
5. بیوی کے طور پر عورت کا مقام
اسلام نے ازدواجی زندگی کو سکون، محبت اور رحمت کا ذریعہ قرار دیا۔ قرآن میں فرمایا گیا:
“اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کی۔”
(سورۃ الروم: 21)
نبی ﷺ نے فرمایا:
“تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرے، اور میں اپنی بیویوں کے ساتھ سب سے اچھا ہوں۔” (ترمذی)
اسلام نے شوہر پر لازم کیا کہ وہ بیوی کے حقوق ادا کرے، نان و نفقہ دے، عزت و احترام کرے اور ظلم نہ کرے۔ طلاق کو آخری چارۂ کار قرار دیا گیا تاکہ عورت کی عزت محفوظ رہے۔
6. عورت کا معاشرتی و قانونی مقام
اسلام نے عورت کو قانونی حیثیت دی۔ وہ جائیداد کی مالک بن سکتی ہے، وراثت میں حق رکھتی ہے، خرید و فروخت کر سکتی ہے، گواہی دے سکتی ہے، اور معاہدہ کر سکتی ہے۔
قرآن کہتا ہے:
“مردوں کے لیے ان کے کمائے ہوئے کا حصہ ہے، اور عورتوں کے لیے ان کے کمائے ہوئے کا حصہ ہے۔” (سورۃ النساء: 32)
وراثت میں بھی عورت کو اس کے مقام کے مطابق حصہ دیا گیا، جو اس کے مالی بوجھ سے مطابقت رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر، مرد پر خرچ کی ذمہ داری ہے جبکہ عورت کا حصہ اس کی ذاتی ملکیت رہتی ہے۔
7. عورت کی تعلیم و تربیت
اسلام نے عورت کی تعلیم کو مرد کے برابر ضروری قرار دیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
“علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔”(ابن ماجہ)
ابتدائی اسلامی دور میں عورتوں نے تعلیم، تدریس، طب اور دینی خدمت کے میدانوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، ام سلمہ، اور شفاء بنت عبداللہؓ جیسے نام تاریخ اسلام میں روشن مثالیں ہیں۔
8. عورت کی عزت و عفت کا تحفظ
اسلام نے عورت کی عفت و حیا کی حفاظت کے لیے پردے، نگاہ کی پاکیزگی اور معاشرتی حدود مقرر کیں۔ قرآن مجید میں حکم ہے:
“اے نبی! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مؤمن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر چادریں اوڑھ لیا کریں، تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور انہیں ستایا نہ جائے۔” (سورۃ الاحزاب: 59)
یہ آیت عورت کی عزت کی حفاظت کے لیے ہے، نہ کہ اس پر ظلم کے لیے۔ پردہ دراصل عزت، وقار اور احترام کی علامت ہے۔
9. عورت کے حقوق کی حفاظت
اسلام نے عورت پر ظلم، زبردستی شادی، جہیز کے مطالبات اور وراثت سے محرومی کو حرام قرار دیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
’’جس نے کسی عورت سے اس کی رضا کے بغیر نکاح کیا، اس کا نکاح باطل ہے۔‘‘(نسائی)
اسلام نے نکاح میں عورت کی رضامندی، مہر، اور طلاق کے بعد عدت و نان و نفقہ جیسے حقوق محفوظ کیے۔
نتیجہ
اسلام میں عورت کا مقام عزت، محبت، رحمت، اور برابری کا ہے۔ اس نے عورت کو انسانیت کے برابر مقام دیا، ماں کے طور پر جنت کا دروازہ بنایا، بیٹی کے طور پر رحمت قرار دیا، بیوی کے طور پر محبت و سکون کا ذریعہ، اور فردِ معاشرہ کے طور پر ذمہ دار رکن۔
اسلام نے عورت کو وہ احترام دیا جس کا تصور بھی کسی دوسرے نظام یا تہذیب میں نہیں ملتا۔
لہٰذا عورت کی اصل عظمت اسی وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ اسلام کی دی ہوئی تعلیمات پر عمل کرے اور معاشرہ ان اصولوں کے مطابق اس کے حقوق ادا کرے۔ یہی اسلام کا حقیقی عدل اور عورت کے لیے سب سے بڑا شرف ہے۔
English