شرک کی بنیادی اقسام کون سی ہیں؟

کل ملاحظات : 67
زوم ان دور کرنا بعد میں پڑھیں پرنٹ کریں بانٹیں

شِرْكِ الرُّبُوبِيَّة (شریکِ ربوبیت)، شِرْكِ الْعِبَادَة / شِرْكِ الْأُلُوهِيَّة (شریکِ الٰہیت / عبادت میں شریک رکھنا) ، شِرْكِ الأَسْمَاءِ وَالصِّفَاتِ (اللہ کے اسماء و صفات میں شریک ٹھہرانا)

1) شِرْكِ الرُّبُوبِيَّة (شریکِ ربوبیت)

معنی: کسی کو اللہ کی ربوبیت (خالق، روزی دینے، زندگی و موت دینے، تدبیر عالم) کا شریک ٹھہرانا — مثلاً یہ عقیدہ کہ کوئی مخلوق رزق دیتی ہے یا کوئی مخلوق معاملاتِ کائنات خود چلاتی ہے بجائے اس کے کہ وہ اللہ کی مرضی سے ہوتا ہو۔

مثال: کسی مخلوق یا طاغوت کو رزق دینے یا موت و زندگی کا اختیار دینے والا سمجھنا۔

2) شِرْكِ الْعِبَادَة / شِرْكِ الْأُلُوهِيَّة (شریکِ الٰہیت / عبادت میں شریک رکھنا)

معنی: عبادت یا حاکمِ دل کو اللہ کے سوا کسی کے لئے مخصوص کرنا — مثلاً کسی مخلوق کو دعا، پرستش، برداشت یا کسی کا واسطہ سمجھ کر اسی سے حوائج مانگنا، عہد بندھنا، حرمت و توقیر ایسی صورت میں کہ وہ الٰہی مقام لے لے۔

مثال: مردہ کو یا کسی درویش/ولی/قبر کو براہِ راست حوائج و دعا کے لئے حقیقی واسطہ، معبود یا مددگار سمجھنا اگر اس کا مطلب یہ ہو کہ وہ ربّی اعتبار میں اللہ کے ساتھ شریک ہو گیا۔

3) شِرْكِ الأَسْمَاءِ وَالصِّفَاتِ (اللہ کے اسماء و صفات میں شریک ٹھہرانا)

معنی: اللہ کی ذات، اسماء یا صفات کو مخلوق کے ساتھ ملا دینا یا مخلوق کے لیے وہ اسی کیفیت منسوب کرنا جو صرف اللہ کے لیے مخصوص ہے — مثلاً کسی کو خالق، رازق، قہّار کہنا اگر حقیقی معنوں میں وہ اللہ کے مشترک صفات ہوں تو یہ شرک ہے۔ یا اللہ کی صفات کو مخلوق پر ایسے لاگو کرنا کہ اللہ اور مخلوق برابر ہوں۔

مزید دیکھیں

تازہ ترین سوالات